Listen to the poemUrdu audio
Companion videoScholar collaboration
تجھ سے کرتا ہے اے پیار کیوں
یہ جان بے قرار ہے تجھ پر نثار کیوں
رکھتی ہے تیری ادا اسے
آداب عشق تو نے سکھائے ہیں کیا اسے؟
کرتا ہے یہ تری جلوہ گاہ کا
پھونکا ہوا ہے کیا تری برق نگاہ کا؟
آزار موت میں اسے آرام جاں ہے کیا؟
شعلے میں تیرے زندگی جاوداں ہے کیا؟
غم خانہ جہاں میں جو تیری ضیا نہ ہو
اس تفتہ دل کا نخل تمنا ہرا نہ ہو
گرنا ترے حضور میں اس کی نماز ہے
ننھے سے دل میں لذت ہے
کچھ اس میں جوش عاشق ہے
چھوٹا سا تو یہ ذرا سا ہے
، اور ذوق تماشائے روشنی
کیڑا ذرا سا، اور تمنائے روشنی