Listen to the poemUrdu audio
بزم جہاں میں میں بھی ہوں اے ! دردمند
فریاد در گرہ صفت
دی عشق نے حرارت تجھے
اور گل فروش کیا مجھے
ہو بزم عیش کہ مزار تو
ہر حال اشک غم سے رہی ہمکنار تو
تری نظر صفت عاشقان راز
میری نگاہ مایہ آشوب امتیاز
کعبے میں، بت کدے میں ہے یکساں تری ضیا
میں امتیاز میں پھنسا ہوا
ہے شان آہ کی ترے میں
پوشیدہ کوئی دل ہے تری جلوہ گاہ میں؟
جلتی ہے تو کہ سے دور ہے
بے درد تیرے سوز کو سمجھے کہ نور ہے
تو جل رہی ہے اور تجھے کچھ خبر نہیں
بینا ہے اور پر نظر نہیں
میں جوش اضطراب سے بھی
آگاہ اضطراب دل بے قرار بھی
تھا یہ بھی کوئی ناز کسی بے نیاز کا
احساس دے دیا مجھے اپنے گداز کا
یہ مری مجھے رکھتی ہے بے قرار
خوابیدہ اس شرر میں ہیں آتش کدے ہزار
یہ امتیاز رفعت و پستی اسی سے ہے
گل میں مہک، شراب میں مستی اسی سے ہے
بستان و بلبل و گل و بو ہے یہ
اصل کشاکش من و تو ہے یہ
صبح ازل جو حسن ہوا دلستان عشق
ہوئی تپش آموز جان عشق
یہ حکم تھا کہ گلشن 'کن' کی بہار دیکھ
ایک آنکھ لے کے خواب پریشاں ہزار دیکھ
مجھ سے خبر نہ پوچھ کی
شام فراق صبح تھی میری نمود کی
وہ دن گئے کہ قید سے میں آشنا نہ تھا
زیب مرا آشیانہ تھا
قیدی ہوں اور کو چمن جانتا ہوں میں
غربت کے غم کدے کو وطن جانتا ہوں میں
یاد دطن فسردگی بے سبب بنی
شوق نظر کبھی، کبھی ذوق طلب بنی
اے ! انتہائے فریب خیال دیکھ
مسجود ساکنان فلک کا مآل دیکھ
مضموں فراق کا ہوں، ثریا نشاں ہوں میں
آہنگ طبع ناظم کون و مکاں ہوں میں
باندھا مجھے جو اس نے تو چاہی مری نمود
تحریر کر دیا سر
گوہر کو مشت خاک میں رہنا پسند ہے
بندش اگرچہ سست ہے، مضموں بلند ہے
چشم غلط نگر کا یہ سارا قصور ہے
عالم ظہور جلوہ ہے
یہ سلسلہ زمان و مکاں کا، کمند ہے
طوق گلوئے حسن تماشا پسند ہے
منزل کا اشتیاق ہے، گم کردہ راہ ہوں
اے ! میں اسیر فریب نگاہ ہوں
صیاد آپ، حلقہ دام ستم بھی آپ
بام حرم بھی، طائر بام حرم بھی آپ!
میں حسن ہوں کہ عشق سراپا گداز ہوں
کھلتا نہیں کہ ناز ہوں میں یا نیاز ہوں
ہاں، آشنائے لب ہو نہ راز کہن کہیں
پھر چھڑ نہ جائے قصہ کہیں