Listen to the poemUrdu audio
سے بالاتر ہے تو
زینت ہو جس سے وہ ساغر ہے تو
ہو در گوش وہ گوہر ہے تو
جس پہ سیمائے افق نازاں ہو وہ زیور ہے تو
صفحہ ایام سے مٹا
آسماں سے کی طرح کوکب مٹا
حسن تیرا جب ہوا بام فلک سے جلوہ گر
آنکھ سے اڑتا ہے یک دم کا اثر
نور سے معمور ہو جاتا ہے دامان نظر
کھولتی ہے کو ضیا تیری مگر
ڈھونڈتی ہیں جس کو آنکھیں وہ تماشا چاہیے
جس سے کھل جائے وہ جلوا چاہیے
کے دنیا میں نہ نکلے حوصلے
زندگی بھر قید میں رہے
زیر و بالا ایک ہیں تیری نگاہوں کے لیے
آرزو ہے کچھ اسی کی مجھے
آنکھ میری اور کے غم میں سرشک آباد ہو
سے دل آزاد ہو
بستہ رنگ خصوصیت نہ ہو میری زباں
قوم ہو میری، وطن میرا جہاں
دیدہ باطن پہ راز ہو عیاں
ہو شناسائے فلک شمع تخیل کا دھواں
کی کاوش نہ تڑپائے مجھے
حسن عشق انگیز ہر شے میں نظر آئے مجھے
صدمہ آ جائے ہوا سے گل کی پتی کو اگر
اشک بن کر میری آنکھوں سے ٹپک جائے اثر
دل میں ہو کا وہ چھوٹا سا شرر
نور سے جس کے ملے راز حقیقت کی خبر
شاہد قدرت کا آئینہ ہو، دل میرا نہ ہو
سر میں جز ہمدردی انساں کوئی سودا نہ ہو
تو اگر زحمت کش ہنگامہ عالم نہیں
یہ فضیلت کا نشاں اے نہیں
اپنے حسن عالم آرا سے جو تو محرم نہیں
ہمسر یک ذرہ خاک در آدم نہیں
نور مسجود ملک گرم تماشا ہی رہا
اور تو منت پذیر صبح فردا ہی رہا
آرزو کی ہمارے دل میں ہے
لیلی کا گھر اسی محمل میں ہے
کس قدر لذت میں ہے
لطف صد حاصل ہماری میں ہے
سے واقف ترا پہلو نہیں
کا شناسا تو نہیں