Listen to the poemUrdu audio
Companion videoScholar collaboration
شفق صبح کو دریا کا خرام
نغمہ شام کو خاموشی شام
برگ گل آئنہ عارض زبیائے بہار
شاہد مے کے لیے حجلہ جام
حسن آئنہ حق اور دل آئنہ حسن
دل انساں کو ترا
ہے ترے سے کمال ہستی
کیا تری فطرت روشن تھی
تجھ کو جب نے ڈھونڈا
تاب خورشید میں خورشید کو پنہاں دیکھا
سے تو ہستی رہی مستور تری
اور عالم کو تری آنکھ نے عریاں دیکھا
حفظ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ایسا
پھر نہ کرے گی کوئی پیدا ایسا