Listen to the poemUrdu audio
اجالا جب ہوا رخصت کا
پیغام لائی کا
جگایا کو آشیانے میں
کنارے کھیت کے شانہ ہلایا اس نے کا
سے توڑا
اندھیرے میں اڑایا تاج زر کا
پڑھا پر
برہمن کو دیا پیغام کا
ہوئی پر آ کے یوں گویا موذن سے
نہیں کھٹکا ترے دل میں کا؟
پکاری اس طرح دیوار گلشن پر کھڑے ہو کر
چٹک او ! تو موذن ہے گلستاں کا
دیا یہ حکم صحرا میں چلو اے
چمکنے کو ہے جگنو بن کے ہر ذرہ بیاباں کا
سوئے جب گئی زندوں کی بستی سے
تو یوں بولی نظارا دیکھ کر کا
ابھی آرام سے لیٹے رہو، میں پھر بھی آئوں گی
سلادوں گی جہاں کو خواب سے تم کو جگائوں گی