Listen to the poemUrdu audio
(ماخو ذ از ٹینی سن)
سہانی کی گھڑی تھی
زندگی کی کلی تھی
کہیں کو مل رہا تھا
عطا چاند کو چاندنی ہو رہی تھی
سیہ پیرہن شام کو دے رہے تھے
ستاروں کو تھی
کہیں کو لگتے تھے پتے
کہیں زندگی کی کلی پھوٹتی تھی
فرشتے سکھاتے تھے شبنم کو رونا
ہنسی گل کو پہلے پہل آ رہی تھی
عطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کو
خودی تشنہ کام تھی
اٹھی اول اول گھٹا کالی کالی
کوئی حور چوٹی کو کھولے کھڑی تھی
زمیں کو تھا دعوی کہ میں آسماں ہوں
مکاں کہہ رہا تھا کہ میں ہوں
غرض اس قدر یہ نظارہ تھا پیارا
کہ ہو سراپا نظارا
ملک آزماتے تھے پرواز اپنی
جبینوں سے آشکارا
فرشتہ تھا اک، عشق تھا نام جس کا
کہ تھی رہبری اس کی سب کا سہارا
فرشتہ کہ
ملک کا ملک اور
پے سیر فردوس کو جا رہا تھا
سے ملا راہ میں وہ را
یہ پوچھا ترا نام کیا، کام کیا ہے
نہیں آنکھ کو دید تیری گوارا
ہوا سن کے گویا کا فرشتہ
ہوں، مرا کام ہے آشکارا
اڑاتی ہوں میں کے پرزے
بجھاتی ہوں میں
مری آنکھ میں ہے
ہے اسی کا اشارا
مگر ایک ہستی ہے دنیا میں ایسی
وہ آتش ہے میں سامنے اس کے
شرر بن کے رہتی ہے انساں کے دل میں
وہ ہے کی آنکھوں کا تارا
ٹپکتی ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسو
وہ آنسو کہ ہو جن کی تلخی گوارا
سنی عشق نے گفتگو جب کی
ہنسی اس کے لب پر ہوئی آشکارا
گری اس تبسم کی بجلی پر
اندھیرے کا ہو نور میں کیا گزارا
کو جو دیکھا ہو گئی وہ
تھی شکار ہو گئی وہ