Listen to the poemUrdu audio
اے ! ہے تو
میں دیکھ نہ ہو آشکار تو
پنہاں تری ہے
کی نگاہ ہے
آئی نئی ہوا میں
اے ! اب نہیں میں
ہاں کی تجھے جستجو نہ ہو
منت پذیر کا تو نہ ہو!
خالی سے لالے کا جام ہو
پانی کی بوند کا نام ہو
پنہاں درون سینہ کہیں راز ہو ترا
نہ ہو ترا
گویا زبان شاعر رنگیں بیاں نہ ہو
میں نہاں نہ ہو
یہ دور ہے، کہیں چھپ کے بیٹھ رہ
جس دل میں تو مکیں ہے، وہیں چھپ کے بیٹھ رہ
غافل ہے تجھ سے حیرت دیکھ!
جویا نہیں تری دیکھ
رہنے دے جستجو میں خیال بلند کو
حیرت میں چھوڑ کو
جس کی بہار تو ہو یہ ایسا چمن نہیں
قابل تری نمود کے یہ انجمن نہیں
یہ انجمن ہے کشتہء
مقصد تری نگاہ کا
ہر دل کی مستی سے چور ہے
کچھ اور آجکل کے کا ہے