Listen to the poemUrdu audio
اک کی سناتا ہوں کہانی
تیزی نہیں منظور طبیعت کی دکھانی
شہرہ تھا بہت آپ کی کا
کرتے تھے ادب ان کا
کہتے تھے کہ پنہاں ہے میں
جس طرح کہ الفاظ میں مضمر ہوں معانی
لبریز سے تھی دل کی
تھی تہ میں کہیں درد خیال
کرتے تھے بیاں آپ کا اپنی
منظور تھی تعداد کی بڑھانی
مدت سے رہا کرتے تھے ہمسائے میں میرے
تھی سے زاہد کی ملاقات پرانی
حضرت نے مرے ایک شناسا سے یہ پوچھا
اقبال، کہ ہے
پابندی احکام میں ہے کیسا؟
گو شعر میں ہے
سنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتا
ہے ایسا عقیدہ اثر
ہے اس کی طبیعت میں بھی ذرا سا
ہم نے سنی اس کی زبانی
سمجھا ہے کہ ہے میں داخل
مقصود ہے مذہب کی مگر خاک اڑانی
کچھ عار اسے سے نہیں ہے
عادت یہ ہمارے شعرا کی ہے پرانی
گانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوت
اس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانی
لیکن یہ سنا اپنے سے ہے میں نے
بے داغ ہے مانند سحر اس کی جوانی
ہے، اقبال نہیں ہے
دل دفتر حکمت ہے، طبیعت خفقانی
سے بھی آگاہ سے بھی واقف
پوچھو جو کی تو
اس شخص کی ہم پر تو حقیقت نہیں کھلتی
ہو گا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانی
القصہ بہت طول دیا وعظ کو اپنے
تا دیر رہی آپ کی یہ
اس شہر میں جو بات ہو اڑ جاتی ہے سب میں
میں نے بھی سنی اپنے احبا کی زبانی
اک دن جو سر راہ ملے حضرت زاہد
پھر چھڑ گئی باتوں میں وہی بات پرانی
فرمایا، شکایت وہ محبت کے سبب تھی
تھا فرض مرا راہ کی دکھانی
میں نے یہ کہا کوئی گلہ مجھ کو نہیں ہے
یہ آپ کا حق تھا ز رہ
خم ہے مرا آپ کے آگے
پیری ہے تواضع کے سبب میری جوانی
گر آپ کو معلوم نہیں میری حقیقت
پیدا نہیں کچھ اس سے قصور
میں خود بھی نہیں اپنی حقیقت کا شناسا
گہرا ہے مرے کا پانی
مجھ کو بھی تمنا ہے کہ 'اقبال' کو دیکھوں
یکی اس کی جدائی میں بہت اشک فشان
اقبال بھی 'اقبال' سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں، واللہ نہیں ہے