Listen to the poemUrdu audio
Companion videoScholar collaboration
قوم نے پیغام گو تم کی ذرا پروا نہ کی
قدر پہچانی نہ اپنے کی
آہ! بد قسمت رہے سے بے خبر
غافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجر
آشکار اس نے کیا جو زندگی کا راز تھا
ہند کو لیکن خیالی فلسفے پر ناز تھا
شمع حق سے جو منور ہو یہ وہ محفل نہ تھی
بارش رحمت ہوئی لیکن زمیں قابل نہ تھی
آہ! کے لیے ہندوستاں غم خانہ ہے
درد انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہے
سرشار ہے اب تک میں
شمع گوتم جل رہی ہے محفل اغیار میں
بت کدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوا
سے آزر کا گھر روشن ہوا
پھر اٹھی آخر کی پنجاب سے
ہند کو اک نے جگایا خواب سے