Listen to the poemUrdu audio
تو شناسائے نہیں
اے ترے پہلو میں شاید دل نہیں
زیب محفل ہے، شریک شورش محفل نہیں
یہ فراغت بزم ہستی میں مجھے حاصل نہیں
اس چمن میں میں سراپا
اور تیری زندگانی بے گداز آرزو
توڑ لینا شاخ سے تجھ کو مرا آئیں نہیں
یہ نظر غیر از نگاہ چشم صورت بیں نہیں
آہ! یہ دست جفاجو اے نہیں
کس طرح تجھ کو یہ سمجھائوں کہ میں نہیں
کام مجھ کو کے الجھیڑوں سے کیا
دیدئہ بلبل سے میں کرتا ہوں نظارہ ترا
سو زبانوں پر بھی خاموشی تجھے منظور ہے
راز وہ کیا ہے ترے سینے میں جو مستور ہے
میری صورت تو بھی اک برگ ریاض طور ہے
میں چمن سے دور ہوں تو بھی چمن سے دور ہے
مطمئن ہے تو، پریشاں مثل بو رہتا ہوں میں
زخمی شمشیر رہتا ہوں میں
یہ پریشانی مری سامان جمعیت نہ ہو
یہ جگر سوزی چراغ خانہ حکمت نہ ہو
ناتوانی ہی مری سرمایہ قوت نہ ہو
رشک جام جم مرا آ ینہ حیرت نہ ہو
یہ تلاش متصل شمع جہاں افروز ہے
انساں کو خرام آموز ہے