Listen to the poemUrdu audio
Companion videoScholar collaboration
تھے دیار نو زمین و آسماں میرے لیے
وسعت اک جہاں میرے لیے
تھی ہر اک نشان لطف جاں میرے لیے
حرف بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیے
درد، طفلی میں اگر کوئی رلاتا تھا مجھے
شورش زنجیر در میں لطف آتا تھا مجھے
تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے
وہ پھٹے بادل میں بے آواز پا اس کا سفر
پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی خبر
اور وہ حیرت پر
آنکھ وقف دید تھی، لب مائل گفتار تھا
دل نہ تھا میرا، سراپا تھا