Listen to the poemUrdu audio
کل نہیں پڑتی کسی پہلو مجھے
ہاں ڈبو دے اے تو مجھے
سرزمیں اپنی قیامت کی ہے
وصل کیسا، یاں تو اک ہے
بدلے کے یہ نا آشنائی ہے غضب
ایک ہی کے دانوں میں جدائی ہے غضب
جس کے پھولوں میں کی ہوا آئی نہیں
اس چمن میں کوئی لطف نغمہ پیرائی نہیں
لذت پر مٹا جاتا ہوں میں
اختلاط سے گھبراتا ہوں میں
دانہ نما ہے
ہو نہ ہی تو اس دانے کی ہستی پھر کہاں
حسن ہو کیا خود نما جب کوئی مائل ہی نہ ہو
شمع کو جلنے سے کیا مطلب جو محفل ہی نہ ہو
خموشی سے بدلتا کیوں نہیں
میرے آئینے سے یہ جوہر نکلتا کیوں نہیں
کب زباں کھولی ہماری لذت گفتار نے
پھونک ڈالا جب چمن کو نے