Listen to the poemUrdu audio
اے ! جہاں ہے تو
دفتر ہے تو
باعث ہے تو کی نمود کا
ہے سبز تیرے دم سے کا
قائم یہ عنصروں کا تماشا تجھی سے ہے
ہر شے میں زندگی کا تقاضا تجھی سے ہے
ہر شے کو تیری جلوہ گری سے ثبات ہے
تیرا یہ سراپا حیات ہے
وہ جس سے زمانے میں نور ہے
دل ہے، خرد ہے، روح رواں ہے، شعور ہے
اے ، ہم کو دے
کو اپنی تجلی سے نور دے
ہے محفل وجود کا تو
یزدان تو
تیرا کمال ہستی ہر جاندار میں
تیری نمود سلسلہ کوہسار میں
ہر چیز کی حیات کا پروردگار تو
کا ہے تاجدار تو
نے ابتدا کوئی نہ کوئی انتہا تری
آزاد قید اول و آخر ضیا تری