Listen to the poemUrdu audio
اے کہ تیرا میں ہے اسیر
اے کہ تیری روح کا میں ہے اسیر
اس چمن کے کی آزادی تو دیکھ
شہر جو اجڑا ہوا تھا اس کی آبادی تو دیکھ
فکر رہتی تھی مجھے جس کی وہ محفل ہے یہی
کی کھیتی کا حاصل ہے یہی
ہے مرا گرویدہ تقریر دیکھ
سے ذرا اس کی تحریر دیکھ
مدعا تیرا اگر دنیا میں ہے
قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہیں
وا نہ کرنا کے لیے اپنی زباں
چھپ کے ہے بیٹھا ہوا یہاں
کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے
دیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے
میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑ
رنگ پر جو اب نہ آئیں ان فسانوں کو نہ چھیڑ
تو اگر کوئی ہے تو سن میری صدا
ہے دلیری دست کا عصا
عرض مطلب سے جھجک جانا نہیں زیبا تجھے
نیک ہے نیت اگر تیری تو کیا پروا تجھے
بندہ مومن کا دل سے پاک ہے
قوت فرماں روا کے سامنے بے باک ہے
ہو اگر ہاتھوں میں تیرے
شیشہ دل ہو اگر تیرا مثال
پاک رکھ اپنی زباں، ہے تو
ہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبرو
سونے والوں کو جگا دے سے
جلا دے سے