Listen to the poemUrdu audio
ٹوٹ کر کی کشتی ہوئی
ایک ٹکڑا تیرتا پھرتا ہے
میں ٹپکتا ہے کا خون ناب
نے کیا کھولی ہے
چرخ نے بالی چرا لی ہے کی
نیل کے پانی میں یا مچھلی ہے کی
قافلہ تیرا رواں بے منت
گوش انساں سن نہیں سکتا تری
گھٹنے بڑھنے کا سماں آنکھوں کو دکھلاتا ہے تو
ہے وطن تیرا کدھر، کس دیس کو جاتا ہے تو
ساتھ اے لے چل مجھے
کی خلش رکھتی ہے اب بے کل مجھے
نور کا طالب ہوں، گھبراتا ہوں اس بستی میں میں
ہوں میں میں